یہ عداوت کی ادا تجھ میں کہاں سے آئی
یہ عداوت کی ادا تجھمیں کہاں سے آئی
کونسی بات پر، تو یار ہوا ہرجائی ۔
تُو جو کہتا کی یے مہتاب طلب ہے میری
توڑ کے آتا اسے دوست میں خاطر تیری
اِک اشارے پر تیری یار میں کرتا کیا کیا
تُو نہیں جان سکا یار محبت میری۔
تونے دشمن سے برا کام کیا ، مجھے خنجر بھوکا
یہ عداوت کی ادا تجھمیں کہاں سے آئی۔
تیری خاطر میں جہاں بھرسے لڑا ، خودسے او گھر والوں سے
دشمنی لیلی تُجھے کہنے برا والوں سے
پر تجھے راس میرے یار نہ آیا کچھ بھی
یہ عداوت کی ادا تجھمیں کہاں سے آئی۔
fiza Tanvi
11-Jan-2022 07:21 AM
Good
Reply
Simran Bhagat
10-Jan-2022 12:09 PM
Nyc
Reply
Sobhna tiwari
10-Jan-2022 12:03 PM
Good
Reply