Anjana

Add To collaction

یہ عداوت کی ادا تجھ میں کہاں سے آئی

یہ عداوت کی ادا  تجھمیں کہاں سے آئی 
کونسی بات پر، تو یار ہوا ہرجائی ۔

تُو جو کہتا کی یے مہتاب طلب ہے میری 
توڑ کے آتا اسے دوست میں خاطر تیری 
اِک اشارے پر تیری یار میں کرتا کیا کیا 
تُو نہیں جان سکا یار محبت میری۔

تونے دشمن سے برا کام کیا ، مجھے خنجر بھوکا
یہ عداوت کی ادا تجھمیں کہاں سے آئی۔ 

تیری خاطر میں جہاں بھرسے لڑا ، خودسے او گھر والوں سے 
دشمنی لیلی تُجھے کہنے برا والوں سے 
پر تجھے راس میرے یار نہ آیا کچھ بھی 
یہ عداوت کی ادا  تجھمیں کہاں سے آئی۔

   13
3 Comments

fiza Tanvi

11-Jan-2022 07:21 AM

Good

Reply

Simran Bhagat

10-Jan-2022 12:09 PM

Nyc

Reply

Sobhna tiwari

10-Jan-2022 12:03 PM

Good

Reply